حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ایؒ کی تدفین کے موقع پر جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل کے زیرِ اہتمام حوزۂ علمیہ اثنا عشریہ کرگل میں ایک پُروقار مجلسِ تعزیت، فاتحہ خوانی اور بعد ازاں جلوسِ عزا کا انعقاد کیا گیا، جس میں علماء، سادات، مؤمنین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے رہبرِ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

مجلس کا آغاز معروف قاریٔ قرآن حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ طہ شاعری کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مقررین نے رہبرِ شہید کی علمی بصیرت، بے مثال قیادت، استقامت، شجاعت، امتِ مسلمہ کے اتحاد، مظلوموں کی حمایت اور اسلامِ نابِ محمدیؐ کے احیاء کے لیے ان کی گرانقدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ رہبرِ شہید کی حیاتِ طیبہ آنے والی نسلوں کے لیے ہدایت، بیداری، استقلال اور قربانی کا روشن نمونہ ہے۔

اس موقع پر حاجی مرتضیٰ خلیلی، حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ حسین محمدی، حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ عبدالرحمن ماجانی اور حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ طالب حسین سبحانی نے خطاب کیا، جبکہ نظامت کے فرائض حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ عبداللہ منوری نے انجام دیے۔
مجلس کے اختتام پر نمازِ ظہرین ادا کی گئی، جس کے بعد حوزۂ علمیہ اثنا عشریہ کرگل اور شہر کے مختلف علاقوں سے ماتمی جلوس برآمد ہوا۔ جلوس حضرت فاطمہ چوک سے شروع ہو کر مرکزی بازار، اثنا عشریہ چوک، خمینی چوک اور لال چوک سے گزرتا ہوا انقلاب منزل پہنچا، جہاں اختتامی اجتماع منعقد ہوا۔

انقلاب منزل میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل کے سیاسی امور کے انچارج سجاد حسین کرگلی نے کہا کہ رہبرِ شہید کی شہادت نے عالمِ اسلام، خصوصاً ملتِ ایران میں اتحاد کی نئی روح پھونک دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں عوام کی تاریخی شرکت نے دشمنوں کو پریشان کر دیا، تاہم بعض اسلامی ممالک اب بھی امریکہ اور اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔

جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ ناظر مہدی محمدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ رہبرِ شہید نے اسلام، فلسطین، قدس اور محورِ مقاومت کی سربلندی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کرگل کے عوام کو تشییع میں شرکت کا موقع نہ مل سکا، تاہم اس جلوس کے ذریعے انہوں نے اپنی محبت، عقیدت اور وفاداری کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیبتِ کبریٰ کے دور میں مراجعِ عظام کی رہنمائی پر عمل کرنا امت کی ذمہ داری ہے، اور مؤمنین کو چاہیے کہ وہ دین، ایمان اور ولایت کے راستے پر ثابت قدم رہیں۔ انہوں نے رہبرِ شہید کی امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک آواز پر متحد کر دیا۔

تقریب کے اختتام پر رہبرِ شہید کے درجاتِ بلند، مراجعِ عظام خصوصاً آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی اور رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی سلامتی، ایران کی کامیابی، عالمِ اسلام کے امن و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔









آپ کا تبصرہ